منگلورو، 15/جون (ایس او نیوز/ایجنسی ) ریاستی قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر یوٹی قادر نے کہا کہ منگلور و اسمبلی حلقہ کا بولیار گرام ہم آہنگی کی ایک مثال ہے، جہاں مقامی لوگ اور پولیس حالیہ واقعہ سے متعلق معاملے کو حل کرنے جا رہے ہیں۔ یوٹی قادر نے کہا کہ اگر باہر کے لوگ اپنا منہ بند رکھیں تو یہ ملک سے حقیقی دیش بھکتی ہے۔
بروز جمعہ منگلورو شہر سرکٹ ہاؤس میں پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف چند نو جوانوں کی وجہ سے گاؤں کی بدنامی ہوتی ہے۔ اس کے لیے میری گزارش ہے کہ باہر والے وہاں سیاست کرنے کی کوشش نہ کریں اور وہاں کا ماحول مزید خراب نہ کریں۔ بولیار لوگوں کے معاملے پر سیاست کی جائے تو کسی کو ایک بھی ووٹ نہیں ملے گا۔ اگر چہ دو پارٹیوں نے اسمبلی انتخابات میں مجھے ہرانے کی کوشش کی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ قادر نے کہا کہ جو لوگ ایسے مسائل پر سیاست کرتے ہیں اور مسائل پیدا کرتے ہیں وہ حقیقی غدار وطن ہیں۔ کوئی بھی بھارت ماتا کی جئے کہہ سکتا ہے۔ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ وہاں اشتعال انگیز باتوں کے ساتھ گالی گلوچ بھی کی گئی ہے۔ پولیس سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے اس کی جانچ کر رہی ہے۔
یوٹی قادر نے کہا کہ تین لوگوں کا بائیک پر آنے اور جلوس کے بعد اشتعال انگیز نعرے لگانے کا کیا مقصد تھا، اشتعال انگیز نعرہ بازی غلط ہے اور بدلے میں ان کا پیچھا کرنا اور ان پر حملہ کرنا بھی غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ان دونوں واقعات کے حوالے سے قانونی کارروائی کرے گی۔ مقامی لوگوں نے وہاں پر اشتعال انگیز الفاظ کی شکایت کی ہے۔ اس بارے میں باہر کے لوگوں کو آکر بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر میرے پاس یہ بات آتی ہے کہ محکمہ پولیس کی طرف سے انصاف نہیں دیا گیا تو میں اس پر ضرور غور کروں گا۔ مجھے ایسی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ واٹس ایپ پر آڈیو پیغامات کے ذریعے مجھے بتانے والے کسی کو جواب نہیں دے سکتا۔
پولیس سے اپیل ہے کہ معصوم لوگوں کو تنگ نہ کرے، تاہم قادر نے کہا کہ اگر اس معاملے میں ملوث افراد کے فرار ہونے پر پوچھ گچھ کے لیے پولیس اگر کسی کو بلائے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہوگی۔ پولیس کو ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کرنی چاہئے جو سوشل میڈیا پر جعلی آڈیو پیغامات پوسٹ کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب سیاستدان وہاں جاتے ہیں تو اس طرح کے واقعات مزید کنفیوزن کا باعث بنتے ہیں۔ اس لیے وہ وہاں نہیں گئے۔
نامہ نگاروں کے ایک سوال پر اسپیکر قادر نے پوچھا کہ کیا ہمیں ان لوگوں کو دیکھنا چاہئے جنہوں نے مسئلہ پیدا کیا اور ہنگامہ کیا۔ وہاں کے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ ہیں۔ پولیس اور عوام مل کر مسئلہ حل کریں گے ۔ سیاست د انوں کو اس قسم کے مسائل میں دخل اندازی نہیں کرنی ہے۔ میرے حلقے میں سب مجھے عزیز ہیں لیکن میں خاطیوں کی حمایت نہیں کرتا۔ پولیس نے اس معاملے میں سخت کارروائی کی ہے۔ اگر اس وقت میں اسپتال جاؤں معاملہ بگڑ سکتا ہے۔ اس لیے مجھے بھی اور کسی دوسرے سیاستدان کو نہیں جانا چاہئے ۔